طول و عرض

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - لمبائی چوڑائی، (مجازاً) رقبہ، جسامت، جگہ۔ "مجھے بھی ایک تنگ سی کوٹھری میں بند رکھا گیا، جس کا طول و عرض مشکل سے آٹھ فٹ اور چھ فٹ تھا۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ١٥٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'طول' کے ساتھ 'و' بطور حرف عطف لگانے کے بعد عربی ہی سے مشتق اسم 'عرض' لگانے سے مرکب 'طول و عرض' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٧٢٠ء کو "دیوان زادہ قاسم" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لمبائی چوڑائی، (مجازاً) رقبہ، جسامت، جگہ۔ "مجھے بھی ایک تنگ سی کوٹھری میں بند رکھا گیا، جس کا طول و عرض مشکل سے آٹھ فٹ اور چھ فٹ تھا۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ١٥٢ )

جنس: مذکر